وہائٹ ہاؤس کے حکام نے ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی کوششیں شروع کردی ہیں اس سلسلے میں امریکی پارلیمنٹ کے اراکین نے بدھ کے دن ایک بل منظور کرکے ان کمپنیوں پر مالی پابندیاں عائدکرنے کا فیصلہ کیا ہے جنھوں نے ایران کی تیل وگیس کی صنعت میں بیس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ایران پر پابندیاں عائد کرنےکی کوششیں ایسے حال میں جاری ہیں کہ امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن ایران پر مزید پابندیاں لگانے کےسلسلے میں روس کی حمایت حاصل کرنےمیں ناکام ہوگئی ہيں ذرائع ابلاغ کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان اس سلسلے میں اختلاف گہرا ہونے کی وجہ سے ایران پر مفلوج کردینے والی پابندیاں لگانے کا امریکہ کا خواب چکناچور ہوگیاہے ۔ ہیلری کلنٹن کو اپنے دورہ روس میں توقع تھی کہ ماسکو ایران کےخلاف نئی پابندیوں کا خیرمقدم کرےگالیکن روسی وزیرخارجہ سرگئ لاوروف نے ماسکومیں ہیلری کلنٹن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اس وقت ہمیں اپنی تمام کوشسیں مذاکرات کےعمل کی حمایت پرمرکوزرکھنی چاہئے۔انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت پابندیاں دھمکی یا دباؤ غیرتعمیری ہوگا۔ روس کے وزیراعظم ولادمیرپوتین نے بیجنگ میں کہا ہے کہ اس سلسلے میں احتیاط سے قدم اٹھانا چاہئے جبکہ سیاسی ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکہ اور گروپ پانچ جمع ایک کے دوسرےاراکین میں بھی ایران کےخلاف پابندیاں بڑھانے کے سلسلے میں اختلاف رائے پایاجاتا ہے اوریہ اختلاف پہلے سےزیادہ بڑھ گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکی پارلیمنٹ کا یہ اقدام بھی ڈاماٹوقانون کی مانند شکست سے دوچار ہوجائےگاجسے امریکی حکام کامیاب ظاہرکرناچاہتے تھے۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 169453
امریکہ اور گروپ پانچ جمع ایک کے اراکین میں ایران کےخلاف پابندیاں بڑھانے کے سلسلے میں اختلاف رائے بڑھ گیا ہے۔